LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں اور عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی جلوسوں کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارکنوں کی تلاش اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں نے سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں اپنے والد کی صحت پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نکالے جانے والے احتجاجی جلوسوں اور دھرنے کے بعد سکیورٹی اداروں اور پولیس نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارنے اور سرچ آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور قانون شکنی کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ان تمام افراد کی شناخت کر رہی ہے جو حالیہ احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش تھے اور توڑ پھوڑ یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے۔ اس صورتحال کے باعث پارٹی کارکنوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور کئی رہنما روپوش ہو چکے ہیں۔ اسی دوران، جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں نے ایک تازہ انٹرویو میں اپنے والد کی صحت اور سلامتی کے حوالے سے گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے والد کی خیریت کے بارے میں شدید پریشانی لاحق ہے کیونکہ انہیں مناسب طبی سہولیات اور خاندانی ملاقاتوں تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر عمران خان کے بنیادی حقوق بحال کریں اور انہیں جیل میں تمام قانونی و انسانی سہولیات فراہم کی جائیں کیونکہ ان کی حراست کو تین سال کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تین سال تک طویل قید اور سخت ترین پابندیوں کے باوجود عمران خان کا سیاسی اثر و رسوخ کم ہونے میں نہیں آ رہا ہے۔ نکی ایشیا کی ایک رپورٹ میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود عوام میں ان کی مقبولیت میں کمی نہیں دیکھی گئی، اور تحریک انصاف کے کارکن بدستور پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومتی کریک ڈاؤن اور پارٹی کارکنوں کے خلاف جاری پکڑ دھکڑ سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ملک میں جمہوریت اور سیاسی استحکام کے حوالے سے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔