LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے پیدائشی شہریت کے نئے احکامات اور قانونی تنازع

News Image
امریکی سول لبرٹیز یونین نے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈرز کو عدالتوں میں چیلنج کرنے اور ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف تارکین وطن میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے بلکہ ایک نئی آئینی جنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔
واشنگٹن: امریکی سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت اور 'برتھ ٹورزم' کو نشانہ بنانے والے نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا ہے کہ یہ احکامات آئین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں اور عدالتوں میں ان کا قانونی طور پر مقابلہ کیا جائے گا جہاں یہ ناکام ہو جائیں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے قانونی تارکین وطن میں بھی غیر یقینی صورتحال اور خوف پیدا ہو رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی دور میں ایک بار پھر امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو خود بخود شہریت ملنے کے روایتی قانون کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں دستخط کیے گئے نئے احکامات کا مقصد مبینہ طور پر برتھ ٹورزم کا خاتمہ اور امیگریشن کے قوانین کو سخت بنانا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ چودہویں آئینی ترمیم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو جو شہریت کا حق حاصل ہے، اسے صدارتی فرمان کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانونی فرمز اور ماہرینِ قانون نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات سے نہ صرف عام تارکین وطن بلکہ امریکہ میں مقیم ان افراد کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو قانونی دستاویزات کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس تنازع کے بعد اب ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز ہونا طے مانا جا رہا ہے، کیونکہ شہری حقوق کی تنظیمیں اس پالیسی کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاملے کا حتمی فیصلہ امریکی سپریم کورٹ میں ہی ہو گا، جہاں اس آئینی نکتہ پر بحث کی جائے گی۔