Business
تیل کی قیمتوں میں اضافہ: آبِ ہرمز کھولنے کے منصوبے پر خدشات
آبِ ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے منصوبوں اور ممکنہ شرائط پر بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے حوالے سے تناؤ بدستور برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت تیزی دیکھنے میں آئی جب آبِ ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے منصوبوں اور اس سے جڑے ممکنہ سکیورٹی خدشات پر سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایران اور اومان کے درمیان آبِ ہرمز کے حوالے سے معاملات طے پانے کے آخری مراحل میں ہیں، تاہم اس پیش رفت پر امریکہ کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے جس نے کسی بھی قسم کی پابندی یا روکاٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز ڈیل قریب ہے لیکن امریکہ کو اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب، میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ اس منصوبے میں مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی یا رکاوٹ کا عنصر شامل ہو سکتا ہے، جس پر واشنگٹن کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ اس اہم ترین بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اجارہ داری کو قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
ان تمام جیو پولیٹیکل کشیدگیوں اور بیانات کی جنگ کے باعث توانائی کے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار جہازوں کا گزرگاہ ہے اور یہاں ذرا سی بھی کشیدگی یا پالیسی میں تبدیلی براہ راست تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کار آئندہ دنوں میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ تیل کی قیمتوں کا یہ رجحان کس سمت میں جاتا ہے۔