LIVE
Loading Breaking News...

ویلز میں جنگلات کی آگ، مسکنوں کی بحالی میں صدیوں کا خدشہ

News Image
ویلز میں اس موسم گرما میں لگنے والی شدید جنگلات کی آگ سے نایاب کیڑوں اور سانپوں کے مسکن تباہ ہو گئے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ان قدرتی ماحول کی مکمل بحالی میں طویل عرصہ اور صدیاں لگ سکتی ہیں۔
برطانیہ کے علاقے ویلز میں اس موسم گرما کے دوران رونما ہونے والی جنگلات کی ہولناک آگ نے قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین ماحولیات نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس آگ کی زد میں آنے والے قیمتی مسکنوں کو اپنی اصلی حالت میں واپس آنے میں صدیاں لگ سکتی ہیں۔ اس تباہ کن آفت کے نتیجے میں نہ صرف وسیع و عریض رقبے پر پھیلی سبزہ زار زمینیں راکھ ہو چکی ہیں بلکہ کئی نایاب اور حساس انواع کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس سال گرمیوں کے سیزن میں لگنے والی آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے جنگلات کے اندرونی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس آتشزدگی کے دوران سانپوں اور نایاب نسل کے پتنگوں (موتھس) کے قدرتی مسکن مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ یہ جاندار اور کیڑے مکوڑے مقامی ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان کے گھر اجڑ جانے سے اب اس پورے خطے کی بائیو ڈائیورسٹی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ کی حدت اتنی زیادہ تھی کہ مٹی کی زرخیزی اور اس میں موجود ضروری نامیاتی اجزاء بھی جل کر ختم ہو گئے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس طرح کے جنگلات کی آگ محض چند دنوں یا ہفتوں میں لگتی ہے مگر اس کے ماحولیاتی اثرات دہائیوں اور صدیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ویلز کے متاثرہ علاقوں میں پودوں کی نایاب اقسام اور حشرات کی افزائشِ نسل کا عمل رک چکا ہے کیونکہ ان کے لیے سازگار ماحول اب باقی نہیں رہا۔ مقامی انتظامیہ اور فلاحی ادارے اس نقصان کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں تاکہ کسی حد تک بحالی کا عمل شروع کیا جا سکے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ فطرت کو اس کا پرانا روپ واپس دینے کے لیے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین ماحولیات نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں اور مستقبل میں اس قسم کے حادثات کو روکنے کے لیے جدید ترین مانیٹرنگ اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی غفلت یا ماحولیاتی لاپرواہی کی وجہ سے لگنے والی آگ کے واقعات میں کمی لائی جا سکے اور قیمتی قدرتی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔