World
جسونت سنگھ خالڑہ کی بیٹی کی حقیقت کی تلاش اور ان کی میراث
سکھ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑہ کی بیٹی نوکیرن کور اپنے والد کی زندگی اور ان کی میراث پر روشنی ڈال رہی ہیں۔ اس المناک واقعے اور والد کی جدوجہد نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی ایک فلم کو بھی متاثر کیا ہے۔
سکھ انسانی حقوق کے معروف کارکن جسونت سنگھ خالڑہ کی شہادت کو تین دہائیاں بیت چکی ہیں، لیکن ان کے خاندان بالخصوص ان کی بیٹی نوکیرن کور کے لیے انصاف اور سچائی کی تلاش کا سفر تاحال جاری ہے۔ نوکیرن کور نے اپنے والد کی زندگی، ان کی لازوال قربانیوں اور سکھ قوم کے لیے ان کی خدمات پر گہرے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ جسونت سنگھ خالڑہ نے اپنے دور میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور لاپتہ افراد کے معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھایا تھا، جس کی پاداش میں انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ان کی یہ جدوجہد آج بھی دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تمام طویل عرصے کے باوجود، خاندان کا کہنا ہے کہ مکمل حقیقت تاحال پردہ توں باہر نہیں آسکی اور وہ مسلسل اس سچ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ والد کے اس عظیم عزم اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے حال ہی میں ایک فلم بھی بنائی گئی ہے، جس نے ان کی زندگی اور کارناموں کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ اس فلم کے ذریعے نئی نسل کو جسونت سنگھ خالڑہ کی قربانیوں اور ان کے نظریات سے روشناس کرایا جا رہا ہے تاکہ ان کا مشن زندہ رہ سکے۔ نوکیرن کور کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا اور وہ آخری سانس تک اپنے اصولوں پر قائم رہے، اور یہی وجہ ہے کہ تین دہائیاں گزر جانے کے باوجود ان کا نام اور ان کا پیغام لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سکھ برادری ان کی برسی کے موقع پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتی ہیں اور ان کے ادھورے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔