LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب پراپرٹی ریفارمز: زمینی رکاوٹیں اور نئے قوانین کا نفاذ

News Image
صوبہ پنجاب میں جائیداد اور ہاؤسنگ سکیموں کے نئے اصلاحاتی قوانین کے نفاذ میں زمینی اور انتظامی رکاوٹیں حائل ہو گئی ہیں۔ حکام نے ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور سخت نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبہ پنجاب میں جائیداد اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں متعارف کرائے جانے والے اصلاحاتی پروگرام کو زمینی سطح پر کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، کمشنر پنجاب نے ترمیمی ہاؤسنگ سکیم کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ اس شعبے میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم عملی میدان میں یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زمین کے ریکارڈ میں موجود خامیوں اور پرانے طریقہ کار کی وجہ سے ان اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، صوبائی وزراء اور متعلقہ محکموں نے ہاؤسنگ سکیموں کی کڑی نگرانی کے لیے ایک نئے مرکزی نظام (سنٹرلائزڈ سسٹم) کے قیام کا اعلان کیا ہے تاکہ تمام امور کو ڈیجیٹل طریقے سے مانیٹر کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نظام کے مکمل فعال ہونے سے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خاتمے میں مدد ملے گی اور شہریوں کو جائیداد کی خرید و فروخت میں درپیش پیچیدگیوں سے نجات ملے گی۔ حکومت کی طرف سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں تیزی لائی جائے تاکہ زمین کے ریکارڈ کے فرق کو ختم کیا جا سکے اور تمام معاملات کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔