World
شمالی کوریا کی روس یوکرین جنگ میں مداخلت اور اس کے اثرات
شمالی کوریا نے روس کی حمایت میں اپنے فوجی، ہتھیار اور میزائل یونٹ یوکرین کی جنگ میں تعینات کر دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں اس اضافے سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سیول: شمالی کوریا نے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں حمایت کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے اب باضابطہ طور پر اپنے فوجی دستے، جدید ہتھیار اور یوکرین کی جنگی صورتحال کے پیش نظر ایک میزائل یونٹ بھی روس بھیج دیا ہے۔ یوکرین کے انٹیلی جنس حکام کے مطابق، پیانگ یانگ کی جانب سے یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے فوجی تعاون کا واضح ثبوت ہے۔ اس پیشرفت نے عالمی سطح پر سیاسی اور عسکری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ اس سے یوکرین تنازعہ کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اور روس کے درمیان حالیہ مہینوں میں دفاعی تعاون میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے بعد سے پیانگ یانگ نے مبینہ طور پر گولہ بارود اور توپ خانے کے علاوہ اب جنگی ماہرین اور عسکری یونٹس کو بھی محاذ پر بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ مغربی ممالک اور یوکرین کے اتحادی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، روس اور شمالی کوریا دونوں ہی عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دو طرفہ تعلقات کو خودمختار اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کو اس فوجی تعاون کے بدلے روس سے جدید عسکری ٹیکنالوجی، خلائی پروگرام میں مدد اور معاشی امداد حاصل ہو رہی ہے، جس سے کورین جزیرہ نما میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی برادری اس متنازعہ اتحاد کو روکنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہے۔