Technology
سترہ سالہ حیتن دھرپورے کا دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو اور گینز ریکارڈ
بھارتی شہر ناگپور سے تعلق رکھنے والے سترہ سالہ نوجوان حیتن دھرپورے نے بستر پر بیٹھ کر عام تجربات کی مدد سے دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار کر لیا ہے۔ اس حیرت انگیز ایجاد نے گینز ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام درج کروا لیا ہے جو کہ انتہائی درست اور نفاست سے بھرپور حرکتیں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھارت کے شہر ناگپور سے تعلق رکھنے والے ایک سترہ سالہ نوجوان حیتن دھرپورے نے اپنی ذہانت اور لگن کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو دنگ کر دیا ہے۔ حیتن نے کسی ہائی ٹیک یا جدید ترین لیبارٹری کے بغیر، محض اپنے بیڈروم میں کیے جانے والے معمولی تجربات کی مدد سے دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار کر لیا ہے۔ اس انتہائی چھوٹے اور پیچیدہ روبوٹک بازو کا سائز محض 39.25 ملی میٹر ہے، جو کہ انسانی عقل کو دنگ کرنے کے مترادف ہے۔ اس حیرت انگیز کارنامے کے بعد اس باصلاحیت نوجوان نے باضابطہ طور پر گینز ورلڈ ریکارڈز کی تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے درج کروا لیا ہے۔ اس ایجاد نے پوری دنیا کے تکنیکی ماہرین اور محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے کیونکہ اتنی چھوٹی پیمائش میں اتنی پیچیدہ مشینری اور نفاست پیدا کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
حیتن دھرپورے کی یہ کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر انسان کے اندر کچھ کر دکھانے کا جذبہ اور جنون ہو تو وسائل کی کمی کبھی بھی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ اس نے اپنے اس چھوٹے سے بیڈروم میں بیٹھ کر عام گھریلو آلات اور دستیاب چیزوں کی مدد سے اس پراجیکٹ پر طویل محنت کی۔ اس روبوٹک بازو کی سب سے بڑی خاص بات یہ ہے کہ یہ سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود انتہائی نفاست اور درستگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتا ہے اور پیچیدہ حرکات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ نوجوانی کی عمر میں بھی بڑی سائنسی اور تکنیکی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں بشرطیکہ ارادہ پختہ اور سوچ بلند ہو۔
اس عالمی اعزاز کے حصول کے بعد حیتن دھرپورے کو پوری دنیا سے مبارکبادیں موصول ہو رہی ہیں اور ان کے اس کارنامے کو مستقبل کے لیے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ایجادات مستقبل میں مائیکرو روبوٹکس اور میڈیکل سائنس کے شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں جہاں انتہائی باریک جراحی اور چھوٹے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ حیتن کا یہ سفر دیگر نو جوانوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کچھ نیا کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔