Business
ن케이 انڈیکس میں گراوٹ، اے آئی اسٹاکس کا مارکیٹ پر منفی اثر
ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں فروخت کے دباؤ کے باعث ن케이 انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ فروخت کے اس رجحان نے وسیع تر مارکیٹ میں مثبت رجحان کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ٹوکیو کے اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے دوران ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آئے، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) اور سیمی کنڈکٹر سے وابستہ بڑی کمپنیوں کے حصص میں شدید فروخت کے باعث ن케이 انڈیکس میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ن케이 225 انڈیکس 617.18 پوائنٹس یعنی 0.93 فیصد کی کمی کے ساتھ 65,683.26 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی اور خاص طور پر اے آئی سے جڑے ہوئے ہیوی ویٹ حصص میں منافع کی وصولی اور فروخت کا دباؤ تھا، جس نے مجموعی مارکیٹ میں ہونے والے دیگر فوائد کو زائل کر دیا۔
اگرچہ وسیع تر مارکیٹ کے بعض شعبوں میں مثبت رجحان بھی دیکھا گیا اور سرمایہ کاروں نے مختلف دوسرے سیکٹرز میں دلچسپی ظاہر کی، تاہم مصنوعی ذہانت اور چپس تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کی کمزور کارکردگی نے انڈیکس کو نیچے کھینچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ہلچل اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے نے جاپانی مارکیٹ پر بھی اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ دنوں میں اے آئی کے شعبے میں بے پناہ اضافے کے بعد سرمایہ کار اب کچھ حد تک محتاط ہو چکے ہیں اور وہ اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے حصص فروخت کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے ٹوکیو کے سرمایہ کاروں میں وقتی طور پر بے یقینی کی فضا پیدا کی ہے، تاہم اقتصادی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مارکیٹ کی یہ اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہے جو عالمی تکنیکی رجحانات سے جڑا ہوا ہے۔ آئندہ دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں بین الاقوامی مارکیٹس کے رویے اور سیمی کنڈکٹر کی طلب پر مرکوز رہیں گی، جو جاپانی اسٹاک ایکسچینج کی آئندہ کی سمت کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہوں گے۔