World
جرمنی کے ہوائی اڈے پر دھماکہ خیز ڈرون برآمد، سیکیورٹی کے شدید خدشات
جرمنی کے لیپزگ ہوائی اڈے پر یوکرین کے لیے گولہ بارود لے جانے والے ایک طیارے کے قریب دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کی دریافت نے ملک میں اہم بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرے کی نئی سطح کو ظاہر کر دیا ہے۔ ماہرین اور حکام نے اس سیکیورٹی خامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
برلن (نیزورا نیوز) جرمنی کے لیپزگ اور ہالے ہوائی اڈے پر پیش آنے والے ایک تشویشناک واقعے میں، دھماکہ خیز مواد سے لیس ایک ڈرون کو ایسے مقام پر دریافت کیا گیا جو یوکرین کے لیے گولہ بارود لے جانے والے ایک طیارے کے قریب تھا۔ اس واقعے نے ملک کے حساس اور اہم بنیادی ڈھانچے کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور ماہرین نے اسے خطرے کی ایک نئی سطح قرار دیا ہے۔
ایوی ایشن کے امور کے ماہر ہارٹموٹ فرکے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اتفاق کیا ہے کہ اس نوعیت کا سیکیورٹی واقعہ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا تھا اور یہ ہوائی اڈوں پر فضائی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ جرمن وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آیا یہ کوئیری ٹارگٹڈ تخریب کاری کی کوشش تھی یا کسی بڑی سیکیورٹی غفلت کا نتیجہ۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ ڈرون ایسی حالت میں پایا گیا جس میں ممکنہ طور پر نقصان پہنچانے والا مواد موجود تھا، جس نے ہوائی اڈے کے عملے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے ڈرونز کو حساس فضائی حدود میں داخل ہونے سے کیسے روکا جائے، خاص طور پر اس وقت جب ہوائی اڈے پر جنگی یا حساس سامان کی نقل و حمل جاری ہو۔
اس واقعے کے بعد سے جرمنی میں ہوائی اڈوں اور دفاعی تنصیبات کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے مطالبات زور پکڑ چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں بھی اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ ملک کے اندرونی سیکیورٹی کے انتظامات میں موجود خامیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ اس قسم کے ممکنہ خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ تحقیقاتی ٹیمیں تمام شواہد اکٹھے کر کے اصل محرکات تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔