Technology
چیونٹیوں کی بھول بھुलैया پر تحقیق سے ہوشیار روبوٹس کی تیاری کا انکشاف
آٹھویں جماعت کی طالبہ سونگہ چنگ نے چیونٹیوں کی رہنمائی کے طریقوں پر تحقیق کر کے سائنسدانوں کو حیران کر دیا۔ ان کے اس تجربے سے مستقبل کے سمارٹ روبوٹس کو بہتر انداز میں نیویگیٹ کرنے میں مدد ملے گی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں اکثر چھوٹی چھوٹی دریافتیں بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ حال ہی میں آٹھویں جماعت کی ایک ذہین طالبہ سونگہ چنگ نے چیونٹیوں کے چلنے اور راستہ تلاش کرنے کے انداز پر ایک ایسی تحقیق کی ہے جو مستقبل کے ہوشیار روبوٹس کی تیاری میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس نوجوان طالبہ کی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ جاننا تھا کہ آیا چیونٹیاں سفر کے دوران صرف اپنے غدود سے بننے والے خوشبو کے نشانات پر انحصار کرتی ہیں یا کوئی اور طریقہ بھی استعمال کرتی ہیں۔
اپنے اس تجسس کو عملی شکل دینے کے لیے، سونگہ چنگ نے دو سو سرخ ہارویسٹر چیونٹیوں کا انتخاب کیا اور ان کے لیے ایک خصوصی بھول بھुलैया یعنی میز (maze) تیار کیا۔ اس تجربے کے دوران اس نے باریک بینی سے مشاہدہ کیا کہ جب چیونٹیوں کے روایتی خوشبو کے راستوں کو تبدیل یا مسدود کر دیا جاتا ہے تو وہ کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ اس تحقیق کے دوران یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا کہ یہ چیونٹیاں محض خوشبو تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سمت کا تعین کرنے کے لیے بصری نشانیوں یعنی ویژول لینڈ مارکس کا بھی بھرپور استعمال کرتی ہیں۔
سائنسدانوں اور محققین کے لیے یہ نکتہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ماہرین طویل عرصے سے اس تذبذب میں تھے کہ بغیر جی پی ایس یا پیچیدہ سسٹمز کے چھوٹے روبوٹس کو نامعلوم ماحول میں کیسے چلایا جائے۔ چیونٹیوں کے اس قدرتی نظام کو سمجھنے سے اب روبوٹکس انجینئرز کو ایسے نئے الگورتھم بنانے میں مدد ملے گی جو روبوٹس کو کم وسائل اور بصری اشاروں کی مدد سے اپنے راستے کا تعین کرنے کی صلاحیت فراہم کریں گے۔
اس چھوٹی سی سائنسی کوشش نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی تجسس اور غور و فکر کتنے بڑے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سونگہ چنگ کی اس تحقیق کو اگر روبوٹکس کے شعبے میں عملی طور پر لاگو کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں ریسکیو آپریشنز اور مشکل ترین علاقوں کی تلاش کے لیے استعمال ہونے والی مشینیں کہیں زیادہ خودمختار اور ہوشیار ہو جائیں گی۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسی سوچ کے لیے عمر کی نہیں بلکہ صرف مشاہدے اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔