World
اسرائیل میں فوجی قربانی اور سیاسی طاقت کا گٹھ جوڑ
اسرائیلی فوج میں ریٹائرڈ برگیڈیئر جنرل عوفر ونٹر کے ایک متنازع لیکچر کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ فوجی قربانیاں کس طرح سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ملک کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں نئی گرما گرمی پیدا کر دی ہے۔
جون کے آخر میں اسرائیلی فوج کے آفیسر ٹریننگ اسکول میں کیڈٹس کے سامنے ایک ایسے لیکچر کا اہتمام کیا گیا جس نے ملک کے عسکری اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ اس لیکچر کے دوران ریٹائرڈ برگیڈیئر جنرل عوفر ونٹر، جو کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے اندر ایک انتہائی متنازع اور پولرائزنگ شخصیت سمجھے جاتے ہیں، نے مستقبل کے افسران کو مخاطب کیا۔ معروف اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق، ونٹر نے کیڈٹس کو کئی ایسے امور پر بریفنگ دی جن پر بعد میں شدید بحث چھڑ گئی۔ اس نوعیت کے لیکچرز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح فوج کے اندر بعض حلقے اپنے نظریات کو نئی نسل میں منتقل کرنے کی کوشش کر रहे ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے اندر فوجی پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے سیاست کے دروازے تیزی سے کھل رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ میں دی جانے والی قربانیوں اور عسکری خدمات کو اب باقاعدہ طور پر سیاسی کیریئر کی سیڑھی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی کئی فوجی جرنیلوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملکی سیاست میں اہم ترین عہدے حاصل کیے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس رجحان میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس عمل سے ریاست کے جمہوری اداروں اور عسکری قوت کے درمیان جو روایتی توازن ہونا چاہیے تھا، اس کے متاثر ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
عوفر ونٹر جیسے کرداروں کا اس انداز میں کیڈٹس سے مخاطب ہونا اس بات کا غماز ہے کہ فوج کے اندر نظریاتی تقسیم کس حد تک گہری ہو چکی ہے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی تقاریر نہ صرف نوجوان افسران کی سوچ کو متاثر کرتی ہیں بلکہ یہ مستقبل کے سیاسی منظرنامے کو بھی ایک خاص سمت دینے کا باعث بنتی ہیں۔ اسرائیل کے اندرونی سیاسی حالات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں اور ایسے میں عسکری شخصیات کا سیاست میں بڑھتا ہوا دخل ایک نازک موڑ اختیار کرتا جا رہا ہے۔
عوام اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں کی طرف سے بھی اس رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کے اہم ترین اداروں کو سیاست سے بالاتر رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملکی سالمیت اور غیر جانبداری برقرار رہ سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا اسرائیلی قیادت اس بڑھتے ہوئے رجحان کو لگام دینے کے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار کرتی ہے یا پھر فوجی پس منظر کی حامل یہ سیاسی طاقت مزید وسعت اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔