LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں جنریشن زی کا احتجاج اور وزیر تعلیم کا استعفیٰ

News Image
بھارت میں امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد وزیر تعلیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ احتجاجی لہر مودی حکومت کے لیے مستقبل میں مزید سیاسی چیلنجز کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بھارت میں نوجوان نسل یعنی جنریشن زی (Gen Z) کی طرف سے شروع کی جانے والی ایک طاقتور احتجاجی لہر نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ کئی روز تک جاری رہنے والے شدید مظاہروں کے بعد بالآخر بھارت کے وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑ گیا ہے۔ یہ مظاہرے ملک بھر میں مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے تنازع پر پھوٹ پڑے تھے، جس نے لاکھوں طلباء کے مستقبل کو تاریک کر دیا تھا۔ نوجوانوں نے اس ناانصافی کے خلاف سڑکوں پر آ کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا اور وزیر کی برطرفی کا پرزور مطالبہ کیا۔ استعفیٰ دینے والے سابق وزیر تعلیم کے بعد اب حکومت نے پرلاد جوشی کو نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ سوال بدستور قائم ہے کہ کیا نیا وزیر اس بحران سے نمٹنے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔ 'کاک روچ جنتا پارٹی' کے بینر تلے ہونے والے ان مظاہروں میں نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی اور جشن منایا کہ یہ ان کی پہلی بڑی سیاسی فتح ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج محض ایک شروعات ہے اور آنے والے دنوں میں یہ تحریک مودی حکومت کے لیے مزید سنگین سیاسی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ نوجوانوں کی بیداری اور منظم احتجاج نے روایتی سیاسی جماعتوں کو بھی حیران کر دیا ہے، کیونکہ اس بار تحریک کسی روایتی سیاسی رہنما کے بجائے براہ راست عام طلباء اور نوجوان طبقے کی قیادت میں چلائی جا رہی ہے۔ حکومت کو اب روزگار، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور امتحانات کی شفافیت کے حوالے سے سخت اور فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ اس بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کو قابو کیا جا سکے، ورنہ ملک بھر میں یہ احتجاجی لہر مزید وسیع ہو سکتی ہے۔