Technology
آئی فون الٹرا فولڈ: ایپل کا دو ہزار ڈالر کا مہنگا ترین فولڈ ایبل سمارٹ فون
ایپل کمپنی ایک نیا فولڈ ایبل سمارٹ فون متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے جس کی قیمت دو ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یہ سٹریٹجک قدم مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اور صارفین کے بدلتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ایپل ایک بار پھر سمارٹ فون انڈسٹری میں تہلکہ مچانے کے لیے تیار ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی ایک نیا فولڈ ایبل ڈیوائس 'آئی فون الٹرا' لانچ کرنے جا رہی ہے جو آئی فون کی روایتی تاریخ اور اصولوں کو ایک نئے رنگ میں ڈھال دے گا۔ یہ ایک ایسا سٹریٹجک قدم ہے جو ایسے نازک وقت پر اٹھایا جا رہا ہے جب کمپنی عالمی مارکیٹ میں سمارٹ فونز کی دستیابی اور گاہکوں کے جمود جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ اس نئے فولڈ ایبل فون کے ذریعے ایپل کا مقصد صارفین کو ایک بالکل نیا تجربہ فراہم کرنا ہے۔
اس نئے فون کی سب سے نمایاں اور بحث طلب بات اس کی قیمت ہے، جو مبینہ طور پر دو ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اب تک آئی فون کی تاریخ میں اتنی زیادہ قیمت کسی عام ماڈل کے لیے نہیں دیکھی گئی، اور یہ قیمت کا ایک نیا بلند ترین ریکارڈ قائم کرنے جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایپل کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صارفین اب پریمیم اور منفرد ڈیزائن کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں، خواہ وہ فولڈ ایبل ٹیکنالوجی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فولڈ ایبل سمارٹ فونز کا بازار تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس میں دوسرے حریف پہلے ہی اپنے ماڈل متعارف کروا چکے ہیں۔ ایپل کی اس مارکیٹ میں تاخیر سے آمد اس بات کی ضمانت سمجھی جا رہی ہے کہ وہ کوئی انتہائی پختہ، بہترین اور معیاری پراڈکٹ لے کر آئے گی۔ آئی فون الٹرا فولڈ کا ڈیزائن، اسکرین کا معیار اور ہارڈ ویئر ایپل کے اب تک کے تمام فونز سے مختلف اور انتہائی اعلیٰ درجے کا ہوگا، جو اس کی بلند قیمت کو کسی حد تک جواز فراہم کرتا ہے۔
یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا دنیا بھر کے ایپل کے مداح اور صارفین اس دو ہزار ڈالر کے نئے 'آئی فون الٹرا' کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ ڈیوائس توقعات پر پورا اترتی ہے تو یہ آنے والے برسوں میں سمارٹ فون انڈسٹری کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل سکتی ہے۔ ایپل کے اس قدم سے نہ صرف کمپنی کی مالیاتی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی بلکہ دنیا بھر کے تکنیکی ماہرین کی توجہ بھی اس نئے رجحان کی طرف مبذول ہوگی۔