World
یمن میں حوثی حملے، درجنوں فوجی ہلاک اور سعودی عرب کی وارننگ
یمن میں حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب نے مزید حملوں کے خلاف سخت تنبیہ جاری کی ہے۔
یمن میں کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جہاں حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں درجنوں سرکاری فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف کیے گئے جن میں کم از کم تیس سے اڑتیس اہلکار اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ ان پرتشدد کارروائیوں کے بعد خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھکا لگا ہے اور دفاعی و سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حملوں کے دوران متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔دوسری جانب سعودی عرب نے اس صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے جاری یہ پرتشدد کارروائییں خطے کے امن اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اگر اس طرح کے حملے بند نہ کیے گئے تو بھرپور اور سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اس وارننگ کے بعد خطے میں مزید فوجی کشیدگی اور ایک نئے محاذ کے کھلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں امن عمل کو بحال کرنے کی سفارتی کوششیں جاری تھیں۔ اس تازہ ترین خونریزی نے امن مذاکرات کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے اور بین الاقوامی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے کو ایک اور بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ اور تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔