LIVE
Loading Breaking News...

گاڑیوں پر ٹیکس ریلیف اور حکومتی پالیسی کے مالیاتی اثرات

News Image
پاکستان میں دس ملین روپے سے زائد قیمت کی گاڑیوں پر ممکنہ ٹیکس ریلیف نے حکومتی مالیاتی ترجیحات کے حوالے سے شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ اس معاملے پر آٹو سیکٹر نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے جبکہ پالیسی کی عدم موجودگی سے صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستان میں دس ملین روپے سے زائد مالیت کی گاڑیوں کے لیے ٹیکس ریلیف کی خبروں نے ملک بھر میں ایک نیا بحث کا دروازہ کھول دیا ہے، جس سے حکومت کی مالیاتی ترجیحات اور معاشی پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے مخصوص اور اشرافیہ طبقے کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے، ایسے وقت میں جب ملک معاشی بحران اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔ دوسری جانب، آٹو سیکٹر کے نمائندوں نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی پرزور اپیل کی ہے تاکہ صنعت کو اس بحران سے نکالا جا سکے۔ آٹو انڈسٹری کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل نہ دیے جانے کی وجہ سے کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پالیسی کی عدم موجودگی اور تاخیر کی وجہ سے آٹو انڈسٹری کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جس سے روزگار کے مواقع بھی خطرے میں ہیں۔ دریں اثنا، ذرائع کے مطابق حکومت اور متعلقہ حکام نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں، تاہم درآمدی ٹیرف اور آٹو پارٹس پر ڈیوٹی کے تنازعات نے صنعت کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ صنعت سے وابستہ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو فوری طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک متوازن پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے جو نہ صرف ملکی معیشت کے لیے سودمند ہو بلکہ آٹو سیکٹر کو بھی استحکام فراہم کر سکے۔