LIVE
Loading Breaking News...

امنڈا نوکس کا ایڈنبرا فیسٹیول میں کامیڈی شو کا دفاع

News Image
امنڈا نوکس نے ایڈنبرا فیسٹیول میں اپنے مزاحیہ شو پر ہونے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحومہ میریڈیتھ کرچر بھی اس پر ہنستیں۔ اس شو کے خلاف ایک پٹیشن پر چھ ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں جبکہ مقتولہ کے اہل خانہ نے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امنڈا نوکس نے ایڈنبرا فیسٹیول میں اپنے متنازعہ کامیڈی شو کے حوالے سے اٹھنے والے اعتراضات اور تنقید کا پرزور دفاع کیا ہے۔ امنڈا نوکس کا کہنا ہے کہ ان کا یہ مزاحیہ شو کسی بھی طرح تشدد کو تضحیک کا نشانہ نہیں بناتا اور ان کی مرحومہ دوست میریڈیتھ کرچر بھی اس صورتحال پر ضرور ہنستیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اس شو کے خلاف شدید ردعمل دیکھا جا रहा ہے۔ دوسری جانب، مقتولہ میریڈیتھ کرچر کے اہل خانہ نے بھی اس شو کو فوری طور پر بند کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے اور اسے انتہائی نامناسب قرار دیا ہے۔ اس تنازعے کے بعد ایڈنبرا فیسٹیول کے منتظمین پر بھی شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ فیسٹیول میں اس شو کو منسوخ کروانے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن بھی شروع کی گئی جس پر اب تک چھ ہزار سے زائد افراد نے دستخط کر دیے ہیں۔ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس قسم کے شوز سے حساس معاملات میں تشدد کو ہلکا پھلکا بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو کہ متاثرہ خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ فیسٹیول کی انتظامیہ کو ایسے متنازع پروگراموں کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو سماجی اور اخلاقی حدود کو پار کرتے ہوں۔ اس کے باوجود، فیسٹیول کے منتظمین اور خود امنڈا نوکس اس بات پر قائم ہیں کہ شو کو جاری رہنا چاہیے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ فیسٹیول ہمیشہ سے فنکاروں کو اپنی بات کہنے اور مختلف موضوعات پر اظہار خیال کی آزادی فراہم کرتا آیا ہے، اور اس شو کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ شو کی حمایت کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس میں آرٹ اور ذاتی تجربات کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد کسی کی دلآزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ یہ پورا معاملہ ایک بار پھر اس طویل بحث کو تازہ کر رہا ہے جہاں آزادی اظہار رائے اور اخلاقی حدود کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ امنڈا نوکس کے ماضی کے تنازعات کی وجہ سے میڈیا میں بھی اس شو کو لے کر کافی گرم بازاری ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا منتظمین بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پیش نظر کوئی قدم اٹھاتے ہیں یا یہ شو اپنے شیڈول کے مطابق کامیابی سے جاری رہتا ہے۔