World
بحیرہ کیسپیئن میں جہاز پر حملہ: ایران کی یوکرین کو جوابی کارروائی کی دھمکی
ایران نے بحیرہ کیسپیئن میں اپنے ایک بحری جہاز پر مبینہ طور پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے پر یوکرین کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ اس تازہ واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دائرے میں وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کا خطہ بھی شامل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے بعد اب تنازعات کی زد میں بحیرہ کیسپیئن بھی آ گیا ہے، جہاں ایک ایرانی جہاز پر مبینہ حملے کے بعد تہران اور کیف کے درمیان سفارتی و عسکری محاذ آرائی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نے بحیرہ کیسپیئن میں اپنے ایک جہاز کو نشانہ بنائے جانے پر یوکرین کو سخت جوابی کارروائی کی تنبیہ کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر پہلے ہی سمندری گزرگاہوں اور تجارتی راستوں پر شدید سکیورٹی خدات کا سامنا ہے۔ ایران کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں اس حملے کو انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا گیا ہے اور یوکرین کو براہ راست اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تہران اس کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دوسری جانب یوکرین کی طرف سے بھی اس صورتحال پر ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں یوکرینی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال نے بحیرہ کیسپیئن کے خطے میں بھی جنگ کے بادل منڈلانا شروع کر دیے ہیں، جسے اب تک نسبتاً محفوظ علاقہ سمجھا جا رہا تھا۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بحیرہ کیسپیئن میں اس قسم کے واقعات میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی اور بحری تجارت پر بھی انتہائی منفی مرتب ہوں گے۔ عالمی برادری اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ تنازعہ مزید وسیع ہونے سے بچ سکے۔