LIVE
Loading Breaking News...

پشاور ہائیکورٹ کا سابق افغان فوجی افسران کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ

News Image
پشاور ہائیکورت نے پاکستان میں عارضی قیام اور تحفظ کے خواہاں دو سابق افغان فوجیوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ ان درخواست گزاروں نے پاکستانی ویزوں میں توسیع اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔
پشاور ہائیکورٹ نے دو سابق افغان فوجی افسران کی جانب سے دائر کی جانے والی پناہ کی درخواستوں کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آیا جس میں درخواست گزاروں کی جانب سے پاکستان میں عارضی قیام کی استدعا کی گئی تھی۔ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے متعدد سابق افغان فوجی اور حکام ہمسایہ ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تاکہ اپنی جان بچا سکیں۔ اس کیس میں شامل دونوں سابق افغان فوجی افسران نے پاکستان میں قانونی طور پر رہنے کے لیے ویزا میں توسیع اور تحفظ کا مطالبہ کیا تھا تاکہ انہیں کسی بھی قسم کے جانی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ عدالتِ عالیہ کے روبرو اس کیس کی سماعت کے دوران مختلف قانونی اور انتظامی پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ عدالت نے تمام شواہد اور سرکاری مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد یہ اہم فیصلہ صادر کیا جس کے نتیجے میں دونوں سابق افغان فوجیوں کی پناہ کی یہ درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ فریق کی قانونی ٹیم کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور سابق اہلکاروں کے قانونی مسائل اور ویزا کے معاملات پر عدالتی فیصلے ہمیشہ سے انتہائی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ کا یہ حالیہ فیصلہ سرحدی سیکیورٹی، قانونی ضابطوں اور ملکی قوانین کے تناظر میں نہایت معنی خیز سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے کیسز میں وفاقی حکومت کی پالیسی اور ملکی سلامتی کے تقاضے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں عدالتی کارروائی کے دوران مکمل طور پر مدنظر رکھا جاتا ہے۔