Business
بھارت کلین ٹیک مینوفیکچرنگ، وزیر اسٹیل کماراسوامی کا بیان
وزیر اسٹیل کماراسوامی کا کہنا ہے کہ بھارت کو توانائی کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کلین ٹیک کا استعمال کرنے کے بجائے خود اس کی مینوفیکچرنگ کرنی چاہیے۔ ملک کو قابل تجدید توانائی کی پیداوار کا عالمی مرکز بنانے کے لیے مضبوط سپلائی چین کی ضرورت ہے۔
نئی دہلی: بھارت کے وزیر اسٹیل ایچ ڈی کماراسوامی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کو صرف کلین ٹیکنالوجی کی کھپت کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کی تیاری اور مینوفیکچرنگ میں بھی خود کفیل بننا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی مستقبل کی توانائی کی سلامتی براہ راست مقامی مینوفیکچرنگ اور لچکدار ٹیکنالوجی سپلائی چینز سے جڑی ہوئی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ملک کو عالمی سطح پر کلین انرجی ٹیکنالوجی کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے اسٹیل اور دیگر بنیادی دھاتوں کی صنعت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ قابل تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بیٹریوں کی تیاری کے لیے اسٹیل ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی اور گرین انرجی کے منصوبوں کی کامیابی کے لیے مضبوط گھریلو صنعتی بیس کا ہونا ناگزیر ہے، جو ملک کو درکار خام مال اور آلات کی فراہمی کو یقینی بنا سکے۔
حکومت کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ درآمدات پر انحصار کم سے کم کیا جائے اور ملکی سطح پر ہی تمام ضروری وسائل پیدا کیے جائیں۔ اس اقدام سے نہ صرف صنعتی ترقی کو جلا ملے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ وزیر موصوف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارت دنیا بھر میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔