LIVE
Loading Breaking News...

جاوا سیکیورٹی خطرہ: جے ایس او این آر سی ای بگ اور اس کے اثرات

News Image
جاوا کی پروگرامنگ دنیا میں ایک نئے اور خطرناک جے ایس او این ریموٹ کوڈ ایگزیکیوشن (RCE) بگ نے سیکیورٹی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ فাস্ট جے ایس او این کے پرانے ورژنز میں اس سیکیورٹی خامی کو حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ اس کا کوئی باضابطہ پیچ تاحال دستیاب نہیں ہے۔
جاوا کی دنیا میں ایک نئی اور انتہائی خطرناک سیکیورٹی خامی سامنے آئی ہے جو کہ جے ایس او این آر سی ای (RCE) بگ کے نام سے جانی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی نیوز لیٹرز اور ماہرین کے مطابق، یہ کمزوری خاص طور پر فাস্ট جے ایس او این کے ورژن 1.x کو متاثر کر رہی ہے اور اس وقت اسے مختلف حملوں میں فعال طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے سافٹ ویئر ڈویلپرز اور کارپوریٹ سیکیورٹی ٹیموں کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے تاحال کوئی باضابطہ سیکیورٹی پیچ یا اپ ڈیٹ جاری نہیں کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بگ حملہ آوروں کو سسٹم پر ریموٹلی کوڈ چلانے کی اجازت دیتا ہے جس سے پورے انفراسٹرکچر کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دی ہیکر نیوز کی رپورٹس کے مطابق اس خامی کا تکنیکی طریقہ کار اس بات پر مرکوز ہے کہ کس طرح غیر بھروسہ مند جے ایس او این ڈیٹا کو پروسیس کرتے وقت یہ کمزوری جنم لیتی ہے۔ حملہ آور اس سوراخ کا فائدہ اٹھا کر سرورز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور حساس ڈیٹا کی چوری یا سسٹم کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کارپوریٹ اداروں اور انفرادی ڈویلپرز کو شدید خطرے کا سامنا ہے کیونکہ بہت سے سسٹمز میں ابھی تک اس کا سدباب نہیں کیا جا سکا۔ لیسٹ ہیکنگ نیوز نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ متاثرہ فریقین کو فوری طور پر اپنے سسٹمز کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اس خطرے کی زد میں ہیں یا نہیں۔ ماہرین کی جانب سے یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ عارضی طور پر متبادل لائبریریوں کا استعمال کیا جائے یا نیٹ ورک کی سطح پر غیر معمولی ٹریفک کی سخت مانیٹرنگ کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بروقت بچا جا سکے۔ اس حوالے سے مزید اپ ڈیٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ اس بڑے سیکیورٹی چیلنج کا مستقل حل سامنے آ سکے۔