Business
ای پی ایف او دعووں میں تاخیر اور اسٹاف کی کمی، افسران کا وزیر محنت کو خط
ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کی افسران کی تنظیم نے وفاقی وزیر محنت کو ایک خط لکھا ہے۔ خط میں دعووں کی طے شدہ ادائیگیوں میں تاخیر اور افرادی قوت کی کمی کو اہم مسائل کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
نئی دہلی میں ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے افسران کی ایک نمائندہ تنظیم نے وزارتِ محنت کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے۔ اس خط کے اندر فنڈ کے دعووں (پی ایف کلیمز) کی سیٹلمنٹ میں ہونے والی طویل تاخیر، آئی ٹی کے عملے کی شدید کمی اور دیگر انتظامی خامیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں ملازمین اپنے واجبات کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن افرادی قوت پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مسائل حل نہیں ہو पा رہے۔ تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پنشن کے نظام میں فوری طور پر اصلاحات متعارف کروائی جائیں تاکہ عام شہریوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بروقت مالی امداد مل سکے۔ اس کے علاوہ سی آئی ٹی ای ایس کے نفاذ اور ادارے کے اندر موجودہ قیادت کے ڈھانچے میں بھی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ای پی ایف او انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ڈیجیٹل سسٹم کو بہتر بنانے اور تکنیکی مسائل پر قابو پانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم، ملازمین اور افسران دونوں کا ماننا ہے کہ جب تک آئی ٹی کے شعبے میں ماہرین کی بھرتی نہیں کی جاتی اور افرادی قوت کا خلا پر نہیں ہوتا، اس وقت تک نظام میں روانی پیدا کرنا مشکل ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس پیشرفت سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ ادارے کے اندرونی نظام کو مزید شفاف اور فعال بنائے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر موصول ہونے والے لاکھوں کلیمز کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے اور عام ملازمین کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے۔