LIVE
Loading Breaking News...

NEET-UG Exam Format: سپریم کورٹ میں اہم کیس اور نئی تبدیلیاں

News Image
بھارتی حکومت کی جانب سے نیٹ یو جی کے امتحانی فارمیٹ میں نمایاں تبدیلیوں اور اسے کمپیوٹر بیسڈ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملے پر مزید دلائل کے لیے 19 اگست کو سماعت کرے گی۔
نئی دہلی: بھارت میں میڈیکل کے داخلے کے لیے منعقد ہونے والے قومی امتحان نیٹ یو جی (NEET-UG) کے فارمیٹ میں بڑی تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق امتحانی نظام کو مزید شفاف اور بہتر بنانے کے لیے جے ای ای (JEE) طرز کے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ فارمیٹ کو اپنانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد امتحان میں کسی بھی قسم کی دھاندلی یا تکنیکی خرابی کے امکانات کو یکسر ختم کرنا ہے تاکہ طلباء کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اس سلسلے میں حکام کی جانب سے مختلف تجاویز پر اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے تاکہ آئندہ برسوں کے امتحانات کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ دوسری جانب اس پورے معاملے پر سپریم کورٹ بھی باقاعدہ سماعت کر رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے امتحانی نظام میں اصلاحات اور مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق کیس کی اگلی تاریخ سماعت 19 اگست مقرر کی ہے۔ عدالت میں اس بات پر بحث کی جائے گی کہ آیا روایتی کاپی پنسل والے طریقہ کار کو ختم کر کے مکمل طور پر کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام کی طرف منتقل ہوا جا سکتا ہے یا نہیں۔ عدالت کے اس فیصلے سے ملک بھر کے لاکھوں طلباء اور ان کے والدین کی توقعات وابستہ ہیں جو طویل عرصے سے امتحانی نظام میں شفافیت اور بہتری کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر نیٹ یو جی کا امتحان بھی جے ای ای کی طرح کمپیوٹر بیسڈ کر دیا جاتا ہے تو اس سے لاجسٹک چیلنجز تو کم ہوں گے لیکن ساتھ ہی دور دراز کے علاقوں کے طلباء کے لیے کمپیوٹر اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تک رسائی کا مسئلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور عدالت عظمیٰ دونوں ہی اس قدم کو اٹھانے سے پہلے تمام ممکنہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ 19 اگست کو ہونے والی سماعت کے دوران تمام فریقین اپنے دلائل پیش کریں گے جس کے بعد متوقع طور پر امتحانی اصلاحات کی سمت کا تعین کیا جائے گا۔