LIVE
Loading Breaking News...

چین کا 2060 کاربن ہدف اور بیٹری مینوفیکچرنگ انڈسٹری

News Image
چین کی جانب سے 2060 تک کاربن کے اخراج کو صفر کرنے کے ہدف نے بیٹری مینوفیکچرنگ کی صنعت کو نئی وسعت دی ہے۔ ملک میں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے بیٹریوں کی پیداوار میں تیزی آ رہی ہے۔
چین کی عالمی بیٹری کی صنعت میں بڑھتی ہوئی اجارہ داری اور غلبے کو اکثر سطحی عوامل جیسے کہ کم مزدوری کے اخراجات یا حکومتی سبسڈی سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کی اصل بنیاد ایک طویل المدتی اور جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے جس کا تعلق براہ راست ملک کے ماحولیاتی اہداف سے ہے۔ چین نے 2060 تک کاربن کے اخراج کو مکمل طور پر ختم کرنے کا جو عزم کر رکھا ہے، اسی نے بیٹری مینوفیکچرنگ کے شعبے میں اتنی بڑی اور تیز رفتار پیمانے پر ترقی کو ممکن بنایا ہے۔ اس عزم کے تحت، چینی حکومت اور صنعتی اداروں نے مل کر رینویبل انرجی اور الیکٹرک گاڑیوں کی سپلائی چین کو مضبوط کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ صرف کم لاگت مزدور یا چند سبسڈیز اس طویل المدتی کامیابی کی وضاحت نہیں کر سکتیں، بلکہ اس کے پیچھے سائنسی تحقیق، جدید مینوفیکچرنگ یونٹس کا قیام اور خام مال کی فراہمی کے موثر نظام موجود ہیں۔ بیٹریاں بنانے کی یہ ٹیکنالوجی اب چین کو عالمی سطح پر توانائی کی منڈی میں ایک ناقابل تسخیر مقام دلاتی جا رہی ہے، جہاں روایتی ایندھن کا متبادل تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر جب ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، چین کی یہ صنعتی تیاری اسے دنیا بھر میں برقی گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بنا رہی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ کاربن کے اخراج کو صفر کرنے کا یہ ہدف محض ایک کاغذی دعویٰ نہیں ہے بلکہ اس نے چین کی صنعتی پالیسی کی سمت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کی بدولت نہ صرف چین کی معیشت کو مزید استحکام ملے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی گرین انرجی کی طرف منتقلی کا عمل مزید تیز ہو جائے گا۔