LIVE
Loading Breaking News...

تائیوان کا اسمارٹ نیشن 2.0 پلان اور سیمی کنڈکٹر بجٹ

News Image
تائیوان کی قومی کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے اسمارٹ نیشن 2.0 منصوبے کے تحت ٹیکنالوجی کے بجٹ میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے سیمی کنڈکٹر کی خودمختاری اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے چار اہم ستونوں پر مشتمل حکمت عملی تیار کی ہے۔
تائیوان کی قومی کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے مرکزی حکومت کے سال 2027 کے بجٹ پلان کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ٹیکنالوجی کے شعبے پر خرچ کرنے کے لیے 182.3 ارب تائیوانی ڈالر (تقریباً 5.7 ارب امریکی ڈالر) مختص کیے گئے ہیں۔ یہ بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9.5 فیصد زیادہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تائیوان اپنی ڈیجیٹل اور تکنیکی بنیادوں کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس اضافے کا سب سے بڑا حصہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری اور تکنیکی خودمختاری کے لیے رکھا گیا ہے۔ نئے جاری کردہ 'اسمارٹ نیشن 2.0' پلان کے تحت تائیوان کی حکومت نے سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو مزید استحکام دینے کے لیے چار بنیادی ستون متعارف کروائے ہیں۔ ان ستونوں کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر تائیوان کی سپلائی چین کی برتری کو برقرار رکھنا، چپ سازی کی جدید تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانا، ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات تائیوان کو مستقبل کی گلوبل ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سب سے آگے رکھیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر ز کی بڑھتی ہوئی مانگ اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر یہ قدم انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تائیوان پہلے ہی دنیا کی چپس کی تیاری کا مرکز مانا جاتا ہے، لیکن 'اسمارٹ نیشن 2.0' کے ذریعے اس پوزیشن کو مزید ناقابل تسخیر بنایا جا رہا ہے۔ اس بجٹ میں نہ صرف ہارڈ ویئر بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) اور چپس کے سافٹ ویئر انٹیگریشن پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ جدید ترین ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لایا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر کے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کو بھی جدید سیمی کنڈکٹر لیبارٹریز قائم کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اس سے ناصرف اکیڈمیا اور انڈسٹری کے درمیان فاصلے کم ہوں گے بلکہ نئی نسل کو جدید ترین تکنیکی مہارتیں بھی حاصل ہوں گی۔ تائیوان کی حکومت کو امید ہے کہ ان فیصلوں سے نہ صرف ملکی معیشت کو زبردست فروغ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر اس کا تکنیکی اثر و رسوخ بھی مزید مستحکم ہوگا۔