LIVE
Loading Breaking News...

ہزرو میں پی ٹی آئی کے 24 کارکنان سڑک بند کرنے پر گرفتار

News Image
پولیس نے ہزرو کے مقام پر سڑک بند کرنے اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہاتھ پائی کرنے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف کے چوبیس کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق قانون شکنی اور امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پنجاب کے علاقے ہزرو میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کم از کم چوبیس کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ایک اہم شاہراہ کو بلاک کیا جا رہا تھا اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ڈالی جا رہی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، مظاہرین کو متعدد بار سمجھانے اور پرامن رہنے کی اپیل کی گئی لیکن انہوں نے روڈ کھولنے سے انکار کر دیا۔ مظاہرے کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب بعض مشعال کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھ پائی کی اور ان پر پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا اور موقع سے چوبیس افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار شدگان کو قریبی تھانے منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کے خلاف دفعاتِ قنونی کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و عامہ کی فضا خراب کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب، مقامی پی ٹی آئی قیادت نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پرامن احتجاج کرنے کے بنیادی حق پر حملہ قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں کو بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گرفتاریوں کا یہ سلسلہ سراسر سیاسی انتقام کی بو سونگھتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جا سکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ پولیس نے مزید قانون شکنی کرنے والوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔