LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور علاقائی صورتحال

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں کے دوران سعودی عرب کا تین روزہ دورہ شروع کر دیا ہے۔ اس دورے کے دوران وہ سعودی عرب اور ترکی کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف خلیجی خطے میں جاری سفارتی ہلچل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت خطے میں مختلف جیو پولیٹیکل چیلنجز اور اہم سفارتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ریاض آمد پر پاکستانی وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی مصروفیت کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ اپنے اس دورے کے دوران، وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب اور ترکی کے سرفہرست رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ خلیجی خطے کی موجودہ صورتحال اور سلامتی کے امور بھی ان مذاکرات کا خاص حصہ ہوں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات پائے جاتے ہیں، اور مشکل وقت میں دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اقتصادی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں اور موجودہ دورہ اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ سیاسی و سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ دورہ نہ صرف پاک سعودی تعلقات کو مزید گہرا کرے گا بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی تقویت دے گا۔ دورے کے اختتام پر دونوں برادر ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر اہم مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں، جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے سودمند ثابت ہوں گی۔