LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ کشمیر انتخابات: مسلم لیگ ن کا کامیابی کا دعویٰ اور سیاسی کشیدگی

News Image
مسلم لیگ ن نے تمام تر تنازعات اور مخالفت کے باوجود آزاد جموں و کشمیر کے متنازع انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب پی پی پی اور دیگر جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کے الزامات اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ خطے کے حوالے سے جاری سیاسی ہلچل کے درمیان، وزیراعظم شہباز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن (PML-N) نے ایک متنازع انتخابی عمل کے بعد اپنی کامیابی کا باضابطہ دعویٰ کیا ہے۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں سیاسی عدم استحکام اور تناؤ عروج پر ہے، اور عوام کی جانب سے مختلف امور پر احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد جہاں مسلم لیگ ن کے کارکنان میں جشن کا ماحول ہے، وہیں دوسری سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید نوعیت کے تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر (AJK) میں مسلم لیگ ن کے مقامی رہنماؤں نے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی جانب سے لگائے جانے والے دھاندلی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدور اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف طریقے سے مکمل ہوا ہے اور عوام نے ان کی ترقیاتی سیاست پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس کے برعکس، پیپلز پارٹی اور دیگر حریف سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل کو منصفانہ نہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آواز بلند کرنے اور بھرپور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ادھر انتخابی عمل کے دوران مختلف شہروں میں کشیدہ صورتحال بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ گجرات سمیت بعض مقامات پر فائرنگ اور سکیورٹی خدات کے واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جہاں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہوائی فائرنگ اور جشن منانے کے الزام میں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے صورتحال کو کنٹرول کرنے اور باقی ماندہ مراحل کو احسن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے انتخابات کے تیسرے مرحلے کا نظرثانی شدہ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کشیدہ ماحول میں جہاں ایک طرف جماعتیں اپنی اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف عوامی سطح پر پائی جانے والی بے چینی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کا رویہ اور الیکشن کمیشن کے اقدامات اس خطے کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔