LIVE
Loading Breaking News...

جرمن ایئرپورٹ ڈرون حملہ: کیا روس کا ہاتھ ہے؟

News Image
بی بی سی کو موصول ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ روس سے جڑے پراکسیز نے نہ صرف ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد سنبھالا بلکہ انہیں جرمنی بھی پہنچایا۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد یورپی سکیورٹی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے کچھ ایسے اہم شواہد تک رسائی حاصل کی ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جرمنی کے ایک ایئرپورٹ پر پیش آنے والے مبینہ ڈرون اور بم حملے کے پیچھے روس یا اس سے جڑے ہوئے عناصر کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی ممالک میں اہم تنصیبات کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس الرٹس پہلے ہی انتہائی بلند سطح پر ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روس سے منسلک پراکسیز نہ صرف جدید ترین ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے اس سازوسامان کو کامیابی کے ساتھ جرمنی تک پہنچایا بھی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں انتہائی خفیہ رکھی گئی تھیں تاکہ یورپی یونین اور جرمن سکیورٹی ایجنسیوں کی نظروں سے بچا جا سکے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہائبرڈ خطرات اب یورپ کے لیے ایک معمول بنتے جا رہے ہیں جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ جرمن حکام اب اس پورے معاملے کی انتہائی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے کون سے اندرونی یا بیرونی کردار فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس پیش رفت کے بعد جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کے گرد حفاظتی حصار مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ تخریب کاری کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان الزامات کی باقاعدہ تصدیق ہو جاتی ہے تو روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری سفارتی اور سیاسی کشیدگی میں ایک خطرناک اور نیا موڑ آ سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔