LIVE
Loading Breaking News...

تھائی لینڈ اسکول فائرنگ: چودہ سالہ نوجوان نے سات افراد کو ہلاک کر دیا

News Image
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے قریب ایک اسکول اور گھر میں چودہ سالہ نوجوان کی اندہادھند فائرنگ سے پانچ افراد اور بعد میں حملہ آور خود ہلاک ہو گیا۔ اس ہولناک واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے نواحی علاقے میں جمعہ کے روز ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں چودہ سالہ ایک نوجوان نے اپنے گھر اور اسکول میں اندھا دھند فائرنگ کر کے کم از کم پانچ افراد کو ہلاک کر دیا اور بعد میں مبینہ طور پر خود کو بھی گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق اس خونی کھیل کا آغاز ملزم نے اپنے گھر سے کیا جہاں اس نے پہلے اپنے دادا دادی کو گولی کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد وہ قریبی ڈیبرسرین نونٹابوری اسکول پہنچا اور وہاں اندھا دھند گولیاں برسائیں جو کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں سنہ 2022 کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا اجتماعی قتل کا واقعہ ہے۔ پولیس نے بتایا کہ کم عمر حملہ آور نے اسکول میں کم از کم چھبیس گولیاں چلائیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے مزید چونتیس کارتوس بھی اپنے پاس رکھے ہوئے تھے جب کہ استعمال ہونے والا پستول اس کے دادا کی ملکیت تھا۔ واقعے کے بعد اسکول میں شدید افراتفری پھیل گئی اور طلباء خوفزدہ ہو کر قطاروں میں باہر نکلتے دکھائی دیے۔ اس ہولناک حملے کے نتیجے میں تئیس افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جنہیں ایمبولینسوں کے ذریعے فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ فائرنگ کی اس لرزہ خیز واردات کے بعد وزیر تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام نے فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اسکول کا دورہ کیا اور زخمیوں کے لیے امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں اساتذہ اور طلباء دونوں ہی جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جہاں انہوں نے اسکول کی بالائی منزل سے ایک مرد استاد کی لاش برآمد کی جبکہ دوسرے کمرے میں ایک خاتون استاد شدید زخمی حالت میں ملیں جنہیں طبی امداد دینے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ ایمبولینس عملے کے مطابق جب وہ موقع پر پہنچے تو حملہ آور خود بھی اپنے سر پر گولی مار کر گر چکا تھا اور اس کی نبض چل رہی تھی جسے بعد میں انتہائی نگہداشت کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تھائی لینڈ میں گن کلچر اور عام شہریوں کے پاس ہتھیاروں کی فراوانی ایک طویل عرصے سے سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اس ملک میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد میں فائر آرمز شہریوں کی تحویل میں موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ایک بار پھر اسلحے کے لائسنس کے قوانین اور سخت سیکیورٹی اقدامات پر بحث شروع ہو گئی ہے کیونکہ حالیہ چند برسوں کے دوران اسکولوں اور عوامی مقامات پر فائرنگ کے کئی دلخراش واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم اور دیگر وزراء نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔