LIVE
Loading Breaking News...

ڈلاس میں کشمیر کانفرنس، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کا مطالبہ

News Image
امریکہ کے شہر ڈلاس میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کی برسی کے موقع پر ایک خصوصی کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ شرکاء نے تنازع کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔
امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے یعنی آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کی برسی کے موقع پر ایک پروقار 'فرینڈز آف کشمیر' کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب میں امریکہ میں مقبوضہ کشمیر کے حامیوں، مختلف کمیونٹیز کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ وادی کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو اس سنگین صورتحال پر خاموشی توڑنی چاہیے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کو اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں نکالا جاتا۔ آخر میں، کانفرنس کے شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔ تقریب کے اختتام پر کشمیری عوام کی سلامتی اور کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔