World
جرمنی اسرائیل اسلحہ برآمدات: نئے اجازت ناموں میں نمایاں اضافہ
جرمنی کی طرف سے اسرائیل کے لیے اسلحے کے برآمدی اجازت ناموں میں ڈرامائی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس نئے رجحان میں بنیادی طور پر دفاعی ذیلی پروجیکٹس پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
برلن: جرمنی کی جانب سے اسرائیل کے لیے اسلحے کی برآمدی اجازت ناموں میں ایک ڈرامائی اور نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی اور ملکی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ پیش رفت جرمنی کے روایتی مؤقف اور اتحادی اسرائیل کے ساتھ اس کے دفاعی تعاون میں ایک اہم موڑ کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین لہر میں بنیادی توجہ خصوصی طور پر دفاعی نوعیت کے ذیلی پروجیکٹس (sub-projects) پر مرکوز کی گئی ہے۔ دفاعی امور کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جرمنی کی جانب سے جاری کردہ یہ نئے اجازت نامے دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کڑی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون جاری ہے، تاہم موجودہ عالمی منظر نامے میں برآمدی اجازت ناموں کا اس طرح بڑھنا ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس صورتحال پر مختلف حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ایک طرف دفاعی تعاون کو سراہا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اس کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ جرمن حکومت کی طرف سے فی الحال اس معاملے پر مزید تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بھی بحث متوقع ہے۔ اس دوران متعلقہ اداروں کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری ساز و سامان کی ترسیل کے حوالے سے طے پانے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رہے گا، جس میں تکنیکی معاونت اور ذیلی پراجیکٹس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔