World
آئرلینڈ ڈپازٹ ریٹرن اسکیم، ری سائیکلنگ اور فنڈز کا مکمل جائزہ
آئرلینڈ میں سال 2024 کے دوران متعارف کروائی جانے والی ڈپازٹ ریٹرن اسکیم کے تحت صارفین پلاسٹک کی بوتلوں اور کین پر اضافی رقم ادا کرتے ہیں جو کہ ری سائیکلنگ کے بعد واپس مل جاتی ہے۔ اس اسکیم نے ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ غیر دعویٰ شدہ رقم کے حوالے سے بھی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
آئرلینڈ میں سال 2024 کے دوران ایک اہم ماحولیاتی اقدام کے طور پر ڈپازٹ ریٹرن اسکیم (DRS) کا باضابطہ آغاز کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں پلاسٹک کی بوتلوں اور ایلومینیم کے کینز کی ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اس نئی اسکیم کے تحت صارفین جب بھی کوئی مشروب خریدتے ہیں، تو انہیں اس کی قیمت کے ساتھ ایک مخصوص ڈپازٹ رقم بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ بعد ازاں، جب صارف استعمال شدہ بوتلوں یا کینز کو ری سائیکلنگ کے لیے مختص کردہ مقامات یا خودکار مشینوں پر واپس کرتے ہیں، تو ان کی ادا کردہ رقم انہیں مکمل طور پر واپس کر دی جاتی ہے۔ اس اقدام نے عوام میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور صفائی کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم، اس اسکیم کے نفاذ کے بعد سے ایک اہم بحث یہ بھی شروع ہو گئی ہے کہ ان تمام کنٹینرز کا اصل انجام کیا ہوتا ہے اور ایسی صورت میں کیا ہوتا ہے جب صارفین اپنی جمع شدہ رقم واپس لینے کے لیے بوتلوں کو ری سائیکل نہیں کرتے۔ اعداد و شمار کے مطابق، تمام تر آگاہی مہم کے باوجود ایک معقول تعداد ایسی بوتلوں اور کینز کی ہوتی ہے جن پر ادا کی گئی رقم کا دعویٰ نہیں کیا جاتا یا وہ ری سائیکلنگ پوائنٹس تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اس طرح جمع ہونے والی غیر دعویٰ شدہ رقم یا سرپلس فنڈز کے حوالے سے مختلف حلقوں کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس سرمائے کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
متعلقہ حکام اور اسکیم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ غیر دعویٰ شدہ رقوم کو عام طور پر اس نظام کی بہتری، دیکھ بھال، نئی ری سائیکلنگ مشینوں کی تنصیب اور عوامی آگاہی کے لیے چلائی جانے والی مہمات میں ہی دوبارہ لگایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نظام خود کفیل ہو اور اس سے ماحول کو طویل المدتی فوائد حاصل ہوتے رہیں۔ اس کے باوجود، صارفین اور سماجی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اس اضافی سرمائے کے استعمال میں مزید شفافیت ہونی چاہیے تاکہ عوام کو اعتماد حاصل ہو سکے کہ ان کا پیسہ درست سمت میں خرچ ہو رہا ہے۔
مجموعی طور پر، آئرلینڈ کی یہ ڈپازٹ ریٹرن اسکیم ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں ایک تاریخی اور انقلابی قدم ثابت ہو رہی ہے، جس نے دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کی ہے۔ اگرچہ ابتدائی مراحل میں کچھ انتظامی اور تکنیکی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عوام کی بڑی تعداد نے اس نظام کو اپنا لیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے لوگ اس کے عادی ہوں گے، غیر دعویٰ شدہ رقم کا تناسب کم سے کم ہوتا جائے گا اور ملک میں پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے کے اہداف کو بخوبی حاصل کیا جا سکے گا۔