LIVE
Loading Breaking News...

بحیرہ کیسپیئن حملہ: ایران کا یوکرین کو جوابی کارروائی کا انتباہ

News Image
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی بحری جہاز پر یوکرین کے مبینہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک اور جارحانہ اقدام ہرگز ناگزیر نہیں رہے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
تہران: ایران نے بحیرہ کیسپیئن میں اپنے ایک بحری جہاز پر ہونے والے حالیہ حملے کے معاملے پر یوکرین کو انتہائی سخت نتائج سے خبردار کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ اس حملے کے پیچھے یوکرین کا ہاتھ ہے جو کہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے والا ایک غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کی جارحیت کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کا بروقت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی جہاز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور میری ٹائم سکیورٹی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کا یہ حملہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس کا جواب دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ تہران حکومت کی جانب سے اس واقعے کے بعد ملک کی دفاعی اور بحری افواج کو انتہائی درجے کی تیاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں اس کشیدگی کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ بحیرہ کیسپیئن کے خطے میں اس نوعیت کے حملے کے وسیع تر جغرافیائی اور سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین اور ایران کے درمیان پہلے ہی سفارتی سطح پر تناؤ پایا جاتا ہے اور اس تازہ واقعے کے بعد تعلقات مزید نچلی سطح پر جا سکتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک نے بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب، یوکرین کی جانب سے اس واقعے پر فی الحال کوئی حتمی اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ پر سفارتی گرما گرمی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ ایران نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے مفاد اور بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے سفارتی اور عسکری سطح پر مزید سنگین اثرات سامنے آنے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔