LIVE
Loading Breaking News...

برآمدی ترقی: دانشورانہ املاک کا تحفظ اور ایف ٹی اے کا استعمال

News Image
نئی رپورٹ کے مطابق بھارتی برآمد کنندگان کو پائیدار ترقی کے لیے دانشورانہ املاک کے تحفظ اور فری ٹریڈ ایگریمنٹس سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ برآمدی شعبے کی کامیابی کے لیے کسٹم دستاویزات کو بہتر بنانا اور حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔
نئی تجارتی رپورٹس کے مطابق برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈیوں میں پائیدار اور طویل المدتی ترقی حاصل کرنے کی غرض سے ایک مربوط اور جامع حکمت عملی اپنانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ اس حکمت عملی میں دانشورانہ املاک کے تحفظ یعنی آئی پی پروٹیکشن، فری ٹریڈ ایگریمنٹس یعنی ایف ٹی اے کا مؤثر استعمال اور بہتر کسٹم دستاویزات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو کاروباری ادارے اور برآمد کنندگان ان امور پر توجہ نہیں دیتے، وہ عالمی سطح پر مسابقتی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جدید دور میں صرف روایتی طریقوں سے برآمدات بڑھانا ممکن نہیں۔ برآمد کنندگان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی تجارت میں ان کے برانڈز، ایجادات اور تخلیقی کاموں کی قانونی حفاظت یعنی آئی پی پروٹیکشن کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومتوں کی جانب سے مختلف ممالک کے ساتھ کیے جانے والے فری ٹریڈ ایگریمنٹس کے تحت ملنے والے ٹیکس فواید اور ڈیوٹی میں چھوٹ سے پورا فائدہ اٹھانا برآمدات کے حجم کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔ تجارت سے وابستہ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ برآمدی عمل کو آسان بنانے کے لیے کسٹم کی دستاویزات اور طریقہ کار میں شفافیت اور درستگی ناگزیر ہے۔ اگر کسٹم کے مراحل میں تاخیر ہو یا کاغذی کارروائی میں خامیاں ہوں تو اس سے ترسیل کا وقت بڑھ جاتا ہے اور اخراجات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا، برآمد کنندگان کو چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین کی مدد سے ان تمام امور کو بہتر بنائیں تاکہ عالمی منڈیوں میں ان کی پوزیشن مستحکم ہو سکے اور ملک کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آئے۔