Politics
ججوں کی تقرری اور صدارتی منظوری کا معاملہ، حکومت کا غور
وفاقی حکومت نے ججوں کی تقرری کے معاملے پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کو بائی پاس کرنے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ایک آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر مملکت نے ججوں کی تقرری سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
اسلام آباد میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ وفاقی حکومت نے ججوں کی تقرری کے معاملے پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کو بائی پاس کرنے کے مختلف قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک اہم درخواست دائر کی گئی ہے جس میں صدر مملکت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ججوں کی تقرری کے حوالے سے اپنی آئینی اور لازمی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے سمریوں کی منظوری میں تاخیر کی جا رہی ہے جس سے عدالتی امور اور ججوں کے تقرر کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اس قانونی چارہ جوئی کے بعد حکومتیحلقوں میں بھی قانونی ماہرین سے مشاورتی عملتیز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں عدلیہ کی تقرریوں کو بلا تاخیر یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت صدر مملکت کے پاس سمریوں کی منظوری کا اختیار موجود ہے، تاہم اگر اس عمل میں غیر معمولی تاخیر کی جائے تو حکومت کے پاس متبادل آئینی راستے تلاش کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔ دوسری جانب، اس مسئلے نے ایک بار پھر ایوانِ صدر اور وفاقی حکومت کے درمیان قانونی و آئینی حدود کے حوالے سے بحث کو چھیڑ دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی اور عدلیکی پیشرفت متوقع ہے جو ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔