World
غزہ میں جنگ بندی کے دوران 300 بچوں کی ہلاکت، یو این آئی سی ای ایف کی رپورٹ
اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ تین سو دنوں میں تین سو معصوم بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس صورتحال نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جہاں یتیم بچوں کی تعداد میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ سے انتہائی دلخراش اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق خطے میں نام نہاد جنگ بندی کے دوران بھی معصوم بچوں کے قتل عام کا سلسلہ نہیں روکا جا سکا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی اور جاری تنازع کے تین سو دنوں میں تین سو سے زائد بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو کہ یومیہ ایک بچے کی ہلاکت کے مترادف ہے۔ اس بھیانک صورتحال نے بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ نے فلسطین میں جاری پرتشدد کارروائیوں اور مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک نیا دریچہ وا کر دیا ہے، جس سے اسرائیل پر عائد ہونے والے نسل کشی کے الزامات کی جانچ پڑتال میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ کے باسیوں کو مسلسل شدید اسرائیلی تشدد کا سامنا ہے اور اس جاری خونریز لڑائی کے نتیجے میں بچوں کی اموات کا گراف مسلسل اوپر کی طرف جا رہا ہے جس کی وجہ سے خطے میں انسانیت سسک رہی ہے۔
اس سنگین انسانی المیے کا ایک اور اندوہناک پہلو یہ ہے کہ غزہ میں یتیم بچوں کی تعداد ساٹھ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بڑھ رہی ہے۔ جنگ کی تباہ کاریوں نے غزہ کے بچوں کا بچپن ہمیشہ کے لیے چھین لیا ہے اور وہ شدید نفسیاتی و جسمانی مسائل کا شکار ہیں۔ طبی عملے اور اسپتالوں کی تباہی کے باعث زخمی بچوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی بھی ناممکن ہوتی جا رہی ہے، جو کہ اس خطے میں جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی عکاسی کرتی ہے۔