World
این ایچ ایس ٹے سائیڈ: منی میری مین کے میڈیکل ریکارڈز کی تحقیقات
برطانیہ کے علاقے ویسٹ یارک شائر سے تعلق رکھنے والی منی میری مین کے نائن ویلز ہسپتال میں انتقال کے بعد ان کے طبی ریکارڈ میں مبینہ ڈیٹا کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متعلقہ ہیلتھ اتھارٹی نے اس پورے واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے تاکہ حقائق کا پتہ لگایا جا سکے۔
برطانیہ میں ہیلتھ اتھارٹی این ایچ ایس ٹے سائیڈ (NHS Tayside) نے منی میری مین کے طبی ریکارڈز سے متعلق ایک ڈیٹا سیکیورٹی کی خلاف ورزی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ افسوسناک معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ویسٹ یارک شائر سے تعلق رکھنے والی منی میری مین کو ڈنڈی کے علاقے میں ایک صنعتی زون سے شدید زخمی حالت میں ملنے کے بعد نائن ویلز ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ اس کیس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے مریضہ کے انتہائی اہم اور حساس میڈیکل ریکارڈز کی حفاظت اور ان تک غیر مجاز رسائی کے الزامات پر سنجیدہ نوٹس لیا گیا ہے۔ این ایچ ایس حکام کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کی رازداری اور تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور اس بات کی تہہ تک جایا جائے گا کہ آیا میڈیکل ریکارڈز تک رسائی کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات نہ صرف ادارہ جاتی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ لواحقین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ دوسری طرف، متعلقہ اداروں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات کے نتائج جلد سامنے لائے جائیں گے اور اگر کوئی کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داران کے خلاف ضابطے کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فیملی کے ترجمان اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی اس ڈیٹا سیکیورٹی کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور منصفانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ حساس نوعیت کے طبی کوائف کس طرح اور کن حالات میں غیر متعلقہ افراد یا فریقین کی دسترس میں آئے۔