LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر اور قومی آفت کا نفاذ

News Image
جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر نے نظام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے جس پر صدر نے اسے قومی آفت قرار دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بحران سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
جنوبی کوریا ان دنوں اپنی تاریخ کی شدید ترین اور تاریخی گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں نظامِ زندگی شدید متاثر ہو چکا ہے۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے بعد شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر ملک میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ حکام کی جانب سے عوام کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے اور گرمی سے بچاؤ کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اس ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے جنوبی کوریا کے صدر نے شدید گرمی کی اس لہر کو باضابطہ طور پر ایک "قومی آفت" قرار دے دیا ہے۔ صدر کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کو سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ فوری طور پر متحرک ہو جائیں اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائیں۔ حکومتی مشینری کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود رہے اور متاثرہ علاقوں بالخصوص شہری مراکز میں فوری امدادی کارروائیاں اور انتظامات کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو اس شدید موسم سے ریلیف فراہم کیا جا سکے... موسم کی اس شدت کے باعث ملک کے اہم فضائی اڈوں پر بھی ہنگامی انتظامات کیے گئے ہیں جہاں مسافروں کے لیے خصوصی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ ایئرپورٹس اور دیگر عوامی مقامات پر آنے والے مسافروں کو گرمی کے اثرات سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی، طبی امداد اور سایہ دار جگہوں کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، فضائی حدود اور حساس تنصیبات کی نگرانی کے لیے ڈرون انتباہات کا نظام بھی فعال کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ موسمی یا تکنیکی ہنگامی صورتحال پر بروقت قابو پایا جا سکے اور فضائی سفر کو محفوظ بنایا جا سکے... ماہرینِ موسمیات کے مطابق، گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات دنیا بھر کی طرح جنوبی کوریا میں بھی تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں، جو آنے والے دنوں میں مزید چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اس قومی آفت کے دوران پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی صحت اور حفاظت کو اولین ترجیح دیں اور کام کے اوقات میں مناسب نرمی برتیں۔