World
امریکہ کا آبنائے ہرمز بحری مشن اور یورپی ہچکچاہٹ
برطانیہ اور فرانس نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں ایران کے ساتھ کسی محاذ آرائی سے گریزاں ہیں۔ یورپی ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
واشنگٹن کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک نئے بحری مشن کے قیام اور اس کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے باوجود یورپی ممالک بالخصوص برطانیہ اور فرانس نے اس معاملے پر گہری ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی دارالحکومتوں میں اس بات کا سخت احساس پایا جاتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتے ہیں جبکہ وہ کسی بھی نئی محاذ آرائی سے بچنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے اس سکیورٹی اقدام کا مقصد مبینہ طور پر تجارتی گزرگاہوں کو محفوظ بنانا ہے، تاہم یورپی اتحادی اس حکمت عملی پر تحفظات رکھتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں، جسے یورپ کے بڑے حصوں نے پہلے ہی مسترد کر دیا تھا، یہ تازہ پیش رفت یورپی اور امریکی پالیسیوں میں موجود خلیج کو مزید واضح کرتی ہے۔ برطانوی اور فرانسیسی حکام کا اصرار ہے کہ تہران کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کرنے کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ یورپی سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس اور اہم خطے میں کسی بھی قسم کی فوجی پیش قدمی یا عسکری موجودگی غلط فہمیوں کا سبب بن سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اس وقت خطے میں تناؤ میں کمی یعنی ڈی ایسکلیشن (De-escalation) کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ وہ امریکہ کے ہر اس اقدام میں اندھا دھند شرکت سے گریز کر رہے ہیں جس کا نتیجہ براہ راست تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ یورپی یونین کے رہنماؤں کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ علاقائی استحکام کو برقرار رکھا جائے اور بحران کے پرامن حل کے لیے توازن قائم کیا جائے۔
حالیہ ہفتوں میں سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ اسٹریٹجک خود مختاری کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں امریکہ کی ہر فوجی مہم جوئی کا بلا چوں و چراں حصہ بننے کو تیار نہیں۔ اگرچہ سمندری تجارت کی حفاظت تمام فریقین کے لیے اہم ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں پر واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔