Politics
آزاد کشمیر انتخاب میرپور ڈویژن پولنگ دھاندلی کے الزامات
آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے تیرہ حلقوں میں پولنگ کا عمل جاری ہے، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات اور لفظی جنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن کے تیرہ حلقوں میں پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہو گیا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع یعنی بھمبر، میرپور اور کوٹلی میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس مرحلے میں کل دو اٹھاسی امیدوار انتخابی دنگل میں اترے ہیں جن کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ انتخابی عمل کو پرامن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کل دو ہزار تین سو سولہ پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے ایک ہزار دو سواڑتالیس پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ سات سو چوبیس کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ پولنگ کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تیرہ زونز اور دو سو پانچ سیکٹرز میں مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اٹھارہ ہزار پانچ سو ساٹھ اہلکار سیکیورٹی کے تین سطحی پلان کے تحت فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سیکیورٹی انتظامات کے پہلے درجے میں پولیس، دوسرے درجے میں پنجاب اور سندھ رینجرز جبکہ تیسرے درجے میں پاک فوج کے دستے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ شفاف اور پرامن ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولنگ کے دوران کوٹلی کے حلقہ ایل اے ٹین میں مبینہ دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس اور آڈیو کلپ کے ذریعے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین انتخابی دھاندلی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مکروہ فعل میں ملوث پریزائڈنگ افسران کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کی پارٹی اس وقت تک انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی جب تک اس معاملے کی مکمل تحقیقات نہیں ہو جاتیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے ان الزامات کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت پہلے دن سے یہ کہہ رہی ہے کہ وفاقی حکومت انتخابی عمل میں مداخلت کر رہی ہے۔ انہوں نے ن لیگ پر الزام لگایا کہ پولنگ کے روز بھی وفاقی وزراء اور سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس خطے میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت سیاسی رقابت پائی جاتی ہے اور دونوں جماعتیں اس انتخاب کو جیتنے کے لیے بھرپور زور لگا رہی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے پر کڑی تنقید کی گئی تھی، جس کا سلسلہ پولنگ کے روز بھی مختلف الزامات کی صورت میں جاری ہے۔