LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اور منافع کی شرح

News Image
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس پر خرچ ہونے والی رقم میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر منصوبوں سے مطلوبہ مالی منافع حاصل کرنا اب بھی تنظیموں کے لیے ایک بڑا امتحان بنا ہوا ہے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاری کی رفتار میں بے پناہ تیزی آ چکی ہے اور عالمی سطح پر اس مد میں اخراجات کے ریکارڈ قائم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تازہ ترین اندازوں کے مطابق سال 2026 تک اے آئی پر عالمی اخراجات بڑھ کر 2.59 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ سال بہ سال بنیادوں پر تقریباً 47 فیصد کا زبردست اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ رجحان اس بات کا غماز ہے کہ تمام چھوٹے و بڑے ادارے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اے آئی کو اپنانے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ تاہم، اس تمام تر جوش و خروش کے باوجود کاروباری دنیا کے لیے ایک پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ تمام تر سرمایہ کاری کے باوجود اس کا تناسبِ منافع یا آر او آئی (ROI) توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں شروع کیے جانے والے کل مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں سے صرف 28 فیصد ہی ایسے ہیں جو تسلی بخش یا مثبت منافع پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ باقی ماندہ منصوبے یا تو ابتدائی مراحل میں ہیں یا پھر وہ تنظیموں کو ان کے مالی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں، جس سے کارپوریٹ سیکٹر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال نے کاروباری رہنماؤں اور تکنیکی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کمپنیوں کو محض اندھا دھند فنڈنگ کرنے کے بجائے اپنے اسٹریٹجک اہداف کے مطابق اے آئی ٹولز کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، ملازمین کی تربیت، ڈیٹا کے معیار کی بہتری اور پروجیکٹ کے آغاز سے لے کر اس کے نفاذ تک ایک واضح لائحہ عمل مرتب کرنا اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔