World
ترکیہ کے صدر اردوان کا دورہ سعودی عرب اور سہ فریقی دفاعی معاہدہ
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے دورہ سعودی عرب کے دوران خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اس اہم دورے میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ایک اہم دورے کے دوران سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جہاں وہ خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر اعلیٰ حکام سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس دورے کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ اور خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھلنے کا امکان ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران خطے کے امن و استحکام اور دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مختلف امور زیر بحث لائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس دورے کی ایک اور بڑی خاص بات سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ تینوں ممالک کے مابین یہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی، عسکری تعاون اور دفاعی صنعت میں اشتراک کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک تاریخی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں تینوں برادر اسلامی ممالک کا دفاعی شعبے میں قریب آنا انتہائی معنی خیز ہے۔
جده میں ہونے والے ان مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے عالمی میڈیا میں بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں اور تجزیہ کار اسے مشرق وسطیٰ کے دفاعی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں، عسکری ساز و سامان کی تیاری اور انٹیلی جنس شیئرنگ جیسے شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی جس سے تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید تقویت ملے گی۔
صدر رجب طیب اردوان کا یہ دورہ نہ صرف ترکیہ اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے کر جائے گا بلکہ پاکستان سمیت اس سہ فریقی اتحاد کو بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ خطے کے عوام اور مبصرین اس پیشرفت کو نہایت امید افزا قرار دے رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔