Politics
ن لیگ کا پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات پر ردعمل
آزاد جموں و کشمیر مسلم لیگ ن کے صدر نے پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اس دوران امن و امان کے خدشات اور سیکورٹی وجوہات کے باعث انتخابات کے تیسرے مرحلے کا شیڈول بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آزاد کشمیر مسلم لیگ ن کے صدر نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی عمل میں دھاندلی کے لگائے جانے والے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے اور شکست سے دوچار ہونے والی جماعتیں اپنی ناکامی کا ملبہ انتظامیہ اور دیگر جماعتوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب آزاد کشمیر کے انتخابی حلقوں میں سیاسی گہما گہمی کے دوران مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے مظفرآباد کے مختلف حلقوں میں ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد سیاسی میدان میں مقابلے کی فضا مزید گرم ہو گئی ہے۔ انتخابی نتائج کے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ علاوہ ازیں، خطے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور سیکورٹی کے خدشات کے پیش نظر آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے انتخابات کے تیسرے مرحلے کا شیڈول تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے تحت الیکشن باڈی نے دو اضلاع میں دس اگست کو ہونے والی پولنگ کو بھی موخر کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور انتخابی عمل کو پرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔ اس دوران پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت بالخصوص شیری رحمان اور دیگر رہنماؤں نے بھی انتخابات میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ خطے میں جمہوری عمل بلا تعطل جاری رہ سکے اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔