LIVE
Loading Breaking News...

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات: نئی پیشکش اور پاکستان تحریک انصاف کے تحفظات

News Image
حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دوبارہ پیشکش کی گئی ہے تاہم پی ٹی آئی نے اسے محض فوٹو سیشن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حقیقی مذاکرات کے لیے بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور سنجیدہ ماحول ناگزیر ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اس بار غیر سنجیدہ مکالمے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
اسلام آباد میں سیاسی گہमागहमी ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے کیونکہ وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی ایک بار پھر پیشکش کی گئی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے باضابطہ بات چیت کا آغاز کیا جائے تاکہ ملک میں جاری سیاسی و معاشی جمود کو توڑا جا سکے۔ اس نئی پیشکش کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ آیا دونوں فریقین کسی نکتے پر متفق ہو پائیں گے یا نہیں۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی اس پیشکش پر انتہائی محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مبہم یا لایعنی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے جو محض وقت گزارنے یا میڈیا کی حد تک فوٹو سیشن کے لیے ہوں۔ پارٹی ترجمان اور رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے ماحول کو سازگار بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے بغیر کسی مثبت پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے آغاز کے لیے چند بنیادی اور سخت شرائط بھی عائد کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان تک رسائی دی جائے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ قید میں موجود قائد کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ یا مذاکراتی عمل معنی نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ پارٹی پر عائد پابندیوں، کارکنوں کی مبینہ گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کے سلسلے کو بند کیے بغیر کسی بھی قسم کی بات چیت بے سود ثابت ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ہی لچک دکھانا ضروری ہے۔ ملک کو درپیش معاشی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے، لیکن فریقین کے درمیان پائے جانے والے شدید بداعتمادی کے فضا کو ختم کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت پی ٹی آئی کی یہ شرائط ماننے کے لیے تیار ہوتی ہے یا یہ مذاکراتی کوششیں بھی ماضی کی طرح بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہیں۔