World
یمن میں حوثی حملے اور سعودی عرب کی تیاریوں کا جائزہ
یمن میں حوثی باغیوں کے حالیہ اور شدید حملوں میں سرکاری فورسز کے درجنوں اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے پے در پے حملوں کے نتیجے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے، جہاں حالیہ جھڑپوں اور حملوں میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درجنوں اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے خطے میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر خونریزی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یمنی حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے عسکری چوکیوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
دوسری جانب، یمن کی سرحد سے متصل ملک سعودی عرب نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ سعودی عسکری اور دفاعی حکام نے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید موثر بناتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال یا سرحدی خلاف ورزی کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ سعودی عرب کی جانب سے خطے میں امن و امان کی بحالی اور اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ حالیہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں جاری طویل خانہ جنگی کے سیاسی حل کی کوششیں پہلے ہی سست روی کا شکار ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے ان حملوں میں تیزی لانے کے بعد بین الاقوامی برادری اور خطے کے دیگر ممالک نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں پڑنے سے بچایا جا سکے اور خطے کو ایک اور بڑی جنگ سے محفوظ رکھا جا سکے۔