World
امریکہ ایران کشیدگی: سفارتی کوششوں سے حملے بند اور مذاکرات کا آغاز
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں عارضی تعطل آ گیا ہے اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے ہیں۔ پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
واشنگتن اور تہران کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جسے سفارتی حلقوں کی جانب سے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ پینٹاگون کی طرف سے تیرہ روز تک مسلسل بمباری کے بعد اچانک حملے روک دیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کا گراف نیچے آیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران پاکستان، ترکی اور قطر جیسے ممالک نے انتہائی فعال کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کے درمیان رابطے بحال رکھنے میں کلیدی اہمیت کے حامل رہے۔ پاکستان نے واشنگتن، تہران، ریاض اور بیجنگ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے، کیونکہ اسلام آباد کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اس تنازع کا واحد پائیدار حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ترک خبر رساں ادارے کے مطابق، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہکان فدان نے بھی قطری قیادت اور پاکستان کے عسکری حکام کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں موجودہ صورتحال اور مذاکرات کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان سفارتی کوششوں کا مقصد جنگ بندی کے لیے پیش کردہ مشترکہ فارمولے پر فریقین کے درمیان پیغام رسانی کو تیز کرنا تھا۔ امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ مائیک والز نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے عارضی طور پر حملے روکے ہیں۔ اگرچہ امریکی افواج کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے تاہم موجودہ صورتحال میں مذاکرات کے لیے مناسب فضا قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ خطے کو کسی بڑے تباہ کن اور وسیع تر جنگ سے بچایا جا सके۔
دوسری جانب، امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پینٹاگون کے اندرونی خدشات، ہتھیاروں اور پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخیرے میں کمی اور اعلیٰ عسکری حکام کی جانب سے مخالفت نے بھی صدر ٹرمپ کو بمباری کا سلسلہ روکنے پر مجبور کیا۔ سی این این اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق امریکی سینئر حکام نے خبردار کیا تھا کہ اس مہم کو مزید طول دینے سے نہ صرف اتحادی ممالک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز کے کمانڈر نے بھی اس بمباری کو مزید مؤثر نہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مشورہ دیا تھا، جس کے بعد امریکی حملے رک گئے۔
ایران کی جانب سے بھی اس صورتحال پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور تہران نے بھی دو روز سے جوابی کارروائیاں روک رکھی ہیں۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے تصدیق کی ہے کہ چونکہ ان کی حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی نوعیت کی تھی، اس لیے امریکہ کی جانب سے حملے بند ہوتے ہی انہوں نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔ اگرچہ خطے میں پائیدار امن کے حوالے سے حتمی معاہدہ تاحال طے نہیں پایا، تاہم حالیہ سفارتی کوششوں اور حملوں کے اس تعطل نے خطے کے عوام کو ایک بڑی جنگ کے خطرے سے وقتی طور پر ضرور محفوظ کر دیا ہے اور بین الاقوامی برادری اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اس موقع کو ضائع کیے بغیر باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔