LIVE
Loading Breaking News...

یمن کی صورتحال: حوثی حملوں کے بعد بڑی جنگ کا خدشہ

News Image
یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے حکومتی افواج کے خلاف حملوں میں حالیہ توسیع نے ایک خونریز جنگ کے قریب ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خطے میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سرکاری افواج پر حملوں میں حالیہ اضافے کے بعد تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ایک بڑی اور خونریز جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ حوثی تحریک کی جانب سے سرحد پار اور اندرون ملک کارروائیوں میں وسعت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی اب ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، فریقین کے درمیان امن مذاکرات کے تعطل کے بعد عسکری محاذ آرائی میں تیزی آئی ہے، جو پہلے سے ہی انسانی بحران کا شکار ملک کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، یمنی حکومت کی فورسز بھی حوثیوں کی پیشقدمی کو روکنے کے لیے بھرپور جوابی کارروائیاں کر رہی ہیں، جس سے دونوں اطراف کے جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا، تو یمن ایک بار پھر مکمل خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے کے امن پر پڑیں گے۔ یمن میں جاری اس تنازعے نے پہلے ہی لاکھوں شہریوں کو متاثر کیا ہے اور نئی لڑائی سے خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ تمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ امن کا راستہ فی الحال دھندلا چکا ہے اور بندوق کی آوازیں ایک بار پھر خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے لگی ہیں۔