LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا نیا دفاعی معاہدہ

News Image
پاکستان کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین ایک نیا دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
خطے میں جاری سیاسی و عسکری ہلچل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ایک انتہائی اہم اور تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس بات کا باقاعدہ اعلان پاکستانی حکام کی جانب سے کیا گیا ہے، جس سے خطے کے اسٹریٹجک منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر سیکیورٹی کے چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تینوں برادر اسلامی ممالک اپنے باہمی دفاع کو مزید مستحکم کرنے کی شدید ضرورت محسوس کر رہے تھے۔ معاہدے کی سب سے نمایاں اور اہم شق یہ ہے کہ اس میں باہمی دفاع کی گ্যারنٹی فراہم کی گئی ہے۔ پاکستانی حکام کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی بھی ایک ملک پر ہونے والے بیرونی حملے کو تینوںممالک یعنی سعودی عرب، پاکستان اور ترکی پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس نوعیت کا عسکری توازن خطے میں جارحانہ عزائم رکھنے والی طاقتوں کے لیے ایک واضح اور مضبوط پیغام ہے، جو مشترکہ دفاعی حکمت عملی کے تحت کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تندہی سے تیار ہیں۔ اس سہ فریقی دفاعی معاہدے سے نہ صرف تینوں ممالک کے مابین عسکری تعاون میں بے پناہ اضافہ ہوگا بلکہ انٹیلی جنس شیئرنگ، عسکری تربیت اور مشترکہ مشقوں کے شعبوں میں بھی نئے راہیں کھلیں گے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا یہ اتحاد خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اس طرح کے علاقائی دفاعی اتحادوں کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، اور یہ معاہدہ تینوں ممالک کو سفارتی اور عسکری طور پر ایک نئے اور مضبوط پلیٹ فارم پر لے کر آیا ہے۔