LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کشیدگی کا جال، ماہرین کی آراء

News Image
شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پاپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک خطرناک کشیدگی کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے دونوں ممالک کو سفارتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
شکاگو یونیورسٹی کے معروف پروفیسر رابرٹ پاپ نے اپنے ایک حالیہ تجزیے میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کس طرح ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے ایک ایسے جال میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے چلی آ رہی کشیدگی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پروفیسر پاپ کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی پالیسیاں عارضی طور پر سیاسی فوائد تو دے سکتی ہیں لیکن طویل مدت میں یہ کسی بھی ملک کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوتیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ تنازع محض سفارتی محاذ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے عسکری اور معاشی اثرات پوری دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ کی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے سخت بیانات اور جوابی اقدامات نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے فریقین کے لیے پیچھے ہٹنا یا کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ کرنا انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں دنیا بھر کے سیاسی مبصرین کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔ ماہرین زور دے رہے ہیں کہ اگر اس خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانا ہے تو دونوں ممالک کو اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم حتمی کامیابی کے لیے دونوں جانب سے سیاسی عزم کا ہونا ناگزیر ہے۔